Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح رجسٹرڈ نہیں کروایا، تو نکاح کا کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
9143-FSD

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ لڑکے، لڑکی کا نکاح گھر والوں کی رضا مندی سے ہوا، فیملی کے کچھ افراد اور گواہان بھی موجود تھے ، حق مہر بھی مقرر کیا گیا، لیکن نکاح کو رجسٹر ڈ نہیں کروایا گیا، حالانکہ نکاح رجسٹرڈ کروانا بھی ضروری ہوتا ہے ، اب اولاد بھی ہو چکی ہے ، سوال یہ ہے کہ نکاح رجسٹر ڈ نہ کروانے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ اور کیا جو اولاد پید اہوئی وہ ثابت النسب ہی ہو گی ؟ اس پر تو کوئی حکم نہیں آئے گا؟

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کے مطابق نکاح شرعی گواہوں ( دو عاقل و بالغ مسلمان مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں لڑکا لڑکی یا ان کی طرف سے ان کے وکیل کے ایجاب و قبول کر لینے سے منعقد ہو جاتا ہے ، نکاح کے منعقد ہونے کے لیے شرعاً نکاح فارم کا ہونا یا اسے رجسٹر ڈ کروانا ضروری نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں شرعاً نکاح ہو گیا، نکاح رجسٹر ڈ نہ کروانے کی وجہ سے نکاح یا اولاد پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، اولاد ثابت النسب ہی کہلائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.