Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مرحوم کا قرض اتار نے سے متعلق تفصیلی فتویٰ

Fatwa no.
9141-FSD

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ والد کے انتقال کے بعد قرض کی ادائیگی کیسے کریں، جبکہ یہ معلوم ہو کہ والد نے قرض لیا ہے اور رقم بھی معلوم ہے، مگر قرض خواہوں کا علم نہ ہو ؟ نامعلوم شخص کے قرض کا حکم یہ ہوتا ہے کہ بعد تتبع و تلاش بنیت ثواب صدقہ کر دیا جائے، مگر میت کاتر کہ تو ورثا کا حق ہے، اس میں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ نیز قبل از ادائے قرض وراثت کیسے تقسیم کریں؟

Answer (beginning)

(1) اولاً یہ سمجھ لیجیے کہ میت کا کل ترکہ ورثا کا حق نہیں ہو تا، بلکہ میت کے مال کے ساتھ چار حقوق متعلق ہوتے ہیں اور ان سب میں ترتیب بھی ضروری ہے : سب سے پہلے میت کے کفن دفن کا انتظام و انصرام کیا جائے گا، پھر قرضے کی ادائیگی ، پھر بقیہ ترکے میں سے تہائی 1/3 مال سے وصیت پوری کی جائے گی، اس کے بعد بچنے والا مال ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، اگر قرض وغیرہ کی ادائیگی کے بعد کچھ بھی نہ بچے ، تو ترکہ میں ور ثا کا حق ثابت ہی نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.