Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوۃ کی رقم مدرسے میں خرچ کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 570-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیاز کوۃ کی رقم، مدرسے کی تعمیر ، بجلی کے بل، قرآن پاک، کتابیں، مدرسین کی تنخواہ اور بچوں کے کھانے پینے کے اخراجات میں صرف ہو سکتی ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
زکوۃ کی ادائیگی کے لیے کسی شرعی فقیر کو مالک بنانا شرط ہوتا ہے، چونکہ مدرسے کی تعمیر اور دیگر اخراجات پر ز کوۃ کی رقم صرف کرنے میں فقیر شرعی کو مالک بنانا نہیں پایا جاتا، لہذا زکوۃ کی رقم براہ راست مدرسے کی تعمیر واخراجات میں خرچ نہیں کر سکتے ، اگر ایسا کیا تو زکوۃ ادا نہیں ہو گی ، ہاں اگر ان کاموں میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے کسی عاقل بالغ مستحق زکوۃ شخص کے قبضے میں زکوۃ کی رقم دے کر اسے مالک بنادیا جائے اور پھر وہ اپنی طرف سے مدرسے کی تعمیر و اخراجات میں خرچ کر دے یا کسی دوسرے کو مدرسے کی تعمیر واخراجات میں خرچ کرنے کا وکیل کر دے، تو یوں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.