Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا چھوٹے بچے کی میت کو غسل دینا کیسا؟

Fatwa no.
9195-FSD
Issued
27 جمادی الاولی 1446ھ / 30 نومبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ سات، آٹھ ماہ کے بچے کا انتقال ہو جائے، تو کیا عورت اُسے غسل دے سکتی ہے؟

Answer (beginning)

نابالغ میت کو غسل دینے کے حوالے سے حکم شرعی یہ ہے کہ نابالغ بچہ اگر حد شہوت تک نہ پہنچا ہو ، تو عورت اُسے غسل دے سکتی ہے، لیکن اگر نابالغ بچہ قابل شہوت ہو ، تو عورت اس نابالغ بچے کو غسل نہیں دے سکتی، بلکہ کوئی مرد غسل دے گا، چونکہ سات، آٹھ ماہ کا بچہ قابلِ شہوت نہیں ہوتا، تو عورت اگر غسل دینا چاہے، تو دے سکتی ہے۔ فتاوی قاضی خان ورد المحتار میں ہے،واللفظ للاول: الصغير والصغيرة اذالم يبلغاحدالشهوة يغسلهما الرجال والنساء، لانه ليس لأعضائهما حكم العورة ترجمہ : چھوٹا بچہ اور بچی جب حد شہوت تک نہ پہنچے ہوں، تو مر دو عورت انہیں غسل دے سکتے ہیں، کیونکہ ان دونوں کے اعضائے ستر کو چھپانے کا حکم نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.