Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض غسل کرنے کے بعد نماز کے لیے وضو کرنا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 565-FAM
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا فرض غسل اگر سنت کے مطابق کر لیا جائے، تو اس سے نماز ہو جائے گی یا پھر الگ سے وضو کر نا ضروری ہو گا؟ نیز اگر اسی سے نماز پڑھ سکتے ہیں، تو کیا اس سے صرف ایک وقت کی نماز پڑھ سکتے ہیں یا جب تک وضو باقی رہے گا ساری نمازیں پڑھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
فرض غسل میں چونکہ تمام بدن پر پانی بہایا جاتا ہے، جس کے ضمن میں اعضائے وضو پر بھی پانی بہہ جاتا ہے اور غسل کے ساتھ وضو بھی ہو جاتا ہے، لہذا غسل کے بعد الگ سے وضو کر ناضروری نہیں، ہاں اگر غسل کے بعد وضو توڑنے والی کوئی چیز پائی جائے ، تو الگ سے وضو کرنا ہو گا، پھر جب تک وضو باقی رہے اس سے جتنی چاہے نماز میں پڑھ سکتے ہیں، وہ سب کے لیے کافی ہو گا۔ احکام القرآن للجصاص میں ہے: ”الجنب حین غسل سائر جسده فهو غاسل لهذه الأعضاء فقد قضى عهدة الآية لأنه متوضئ مغتسل فهو إن لم يفرد الوضوء قبل الاغتسال فقد أتى بالغسل على وضوء لأنه أعم منه “ ترجمہ : جنبی شخص جب اپنے تمام جسم پر پانی بہاتا ہے، تو وہ ( آیت میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.