Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کو دفنانے کے بعد قبر پر سورہ بقرہ پڑھنا کیسا؟

Fatwa no.
9018-FSD

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میت کی تدفین کے بعد بعض لوگ قبر کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات "الم" سے " الْمُفْلِحُونَ " اور پاؤں کی طرف سورہ بقرہ کی آخری آیات "امن الرَّسُولُ " سے ختم سورہ تک پڑھتے ہیں، تو اس طرح پڑھنا کیسا؟

Answer (beginning)

میت کو دفن کرنے کے بعد قبر کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات "الم" سے " الْمُفْلِحُونَ " اور پاؤں کی طرف سورہ بقرہ کی آخری آیات "امَنَ الرَّسُولُ " سے ختم سورہ تک پڑھنا مستحب ہے اور یہ احادیث طیبہ و اقوالِ فقہائے کرام سے ثابت ہے۔ چنانچہ المعجم الکبیر اور مجمع الزوائد میں ہے، واللفظ للآخر: "وعن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج قال: قال لي ابي:يابني، إذا مت فالحدلي لحدا، فإذا وضعتني في لحدى فقل: بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم ، ثم شن التراب علي شنا، ثم اقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة وخاتمتها، فإني سمعت رسول الله صلى الله تعالى عليه واله وسلم يقول ذلك.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.