Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا اذان دیتے ہوئے کانوں میں انگلیاں رکھنا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 8984-FSD
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا اذان دیتے ہوئے کانوں میں انگلیاں رکھناضروری ہے ؟ کیونکہ ہماری مسجد کے نائب امام بعض اوقات اذان دیتے ہوئے کانوں میں انگلیاں نہیں رکھتے ، جبکہ اُن کے اِس انداز کے سبب مسجد کے دو نمازیوں کو اعتراض ہے اور وہ تقاضا کرتے ہیں کہ انگلیاں رکھ کر ہی اذان پڑھی جائے کہ ہم ہمیشہ سے اسی طریقے کے مطابق دیتے اور سنتے آئے ہیں۔ اس مسئلہ کے متعلق ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
اذان دیتے ہوئے موزن کا اپنے کانوں میں انگلیاں رکھنا مستحب ہے، البتہ اگر کوئی انگلیاں رکھے بغیر اذان دیدے، تو اذان ہو جائے گی، نیز انگلیاں رکھ کر اذان دینے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح آواز زیادہ بلند ہو جاتی ہے، اب جبکہ مائیک پر اذان دی جاتی ہے، تو اگر چہ وہ حکمت موجود نہیں، مگر جو طریقہ ہمیشہ سے چلتا آرہا ہو، اُس کا خلاف کرنا، بہتر نہیں، بالخصوص اگر اُس طریقے سے ہٹنے میں اختلافات پید اہونے کا اندیشہ ہو تو پھر عمل کرنا ہی بہتر ہے، لہذ اپوچھی گئی صورت میں نائب امام صاحب کو چاہیے کہ طریقہ متوارثہ کے مطابق کانوں میں انگلیاں رکھ کر اذان دیا تنویر الابصار و در المختار کا مشترک کلام ہے: ( ويجعل) ندبا (…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.