Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر پڑھتے ہوئے فجر کا وقت شروع ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 9004 FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص وتر کی نماز ، تہجد تک مؤخر کر کے پڑھ رہا ہو اور وتر کا سلام پھیرنے سے پہلے فجر کا وقت داخل ہو جائے ، تو کیا اس کی نماز وتر ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
اگر وتر کا سلام پھیر نے سے پہلے فجر کا وقت داخل ہو جائے، تو وتر کی نماز ہو جائے گی، دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں، کیونکہ اگر وقت کے اندر تکبیر تحریمہ کہہ لی، تو نماز ہو جاتی ہے، سوائے تین ( فجر ، جمعہ اور عیدین کی ) نمازوں کے ، کیونکہ ان میں وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے سلام پھیر ناضروری ہے ، جبکہ وتر ان نمازوں میں داخل نہیں۔ وقت کے اندر تکبیر تحریمہ کہنے والے کے متعلق علامہ شیخی زادہ رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ ( سالِ وفات : 1078ھ /1667ء)لکھتے ہیں: ”لوشرع في الوقتية عند الضيق ثم خرج الوقت فی خلالهالم تفسد“ ترجمہ : اگر کسی نے تنگ ( یعنی آخری وقت میں وقتی نماز شروع کر دی، پھر اسی نماز پڑھنے کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.