Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نفلی طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عمرے کے طواف کے علاوہ سلے ہوئے کپڑوں میں جو نفلی طواف کیا جاتا ہے، کیا اس کے بعد بھی دور کعت پڑھناواجب ہے یا نہیں ؟ اگر کسی نے بھول کر یا لا علمی کی بنا پر نہ پڑھی ہو اور وہ اپنے ملک واپس آگیا ہو ، تو کیا اب اس پر دم لازم ہو گا؟ یا کیا حکم شرع ہو گا؟

Answer (beginning)

طواف کوئی بھی ہو ( واجب یا نفل) اس کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد دور کعت نماز پڑھنا واجب ہے ، اگر کسی نے نہ پڑھی، تو یہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوگی، ادا ہی کرنی ہو گی، لیکن چھوڑنے سے راجح قول کے مطابق دم واجب نہیں ہو گا، البتہ افضل یہ ہے کہ نماز طواف مقام ابراہیم کے پاس ادا کی جائے ، وہاں جگہ نہ ملے تو مسجد الحرام میں جہاں میسر ہو وہاں پڑھ لی جائے اور اگر کسی نے حدودِ حرم سے باہر اپنے ملک میں ادا کی، تو بھی جائز ہے ، مگر بلاضرورت ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.