Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چار رکعت والی نماز میں دو پر سلام پھیر دیا تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
569-FAM
Issued
21 ربیع الاخر 6144ھ / 25اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے چار رکعت والی فرض نماز میں بھول کر دور کعت کے بعد سلام پھیر لیا، تو اب وہ کیا کرے؟ کام "

Answer (beginning)

اگر کسی نے چار رکعت والی فرض نماز میں بھول کر دور کعت کے بعد سلام پھیر دیا، تو اگر سلام پھیرنے کے بعد کوئی منافی نماز عمل جیسے بات چیت ، قہقہہ ، جان بوجھ کر حدث طاری کرنا، مسجد سے باہر نکل جانا وغیرہ نماز کے خلاف کوئی نہیں کیا ہو ، تو وہ کھڑ ا ہو جائے اور تکبیر تحریمہ کہے بغیر مزید دور کعت اور ملالے، کیونکہ بھول کر سلام پھیر نے کی وجہ سے اس کی وہ نماز ختم نہیں ہوئی ، لہذا دور کعت مزید ملا کر چار رکعت پوری کرلے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے ،البتہ اگر دور کعت پر سلام پھیرنے کے بعد منافی نماز عمل جیسے بات چیت، قہقہہ ، جان بوجھ کر حدث طاری کرنا، مسجد سے باہر نکل جانا وغیرہ نماز کے خلاف کوئی کام کر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.