Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کمیٹی ایڈمن کمیٹی کی رقم اپنے استعمال میں لاسکتا ہے؟

Fatwa no.
9184-FSD
Issued
23 جمادی الاولی 1446ھ / 26 نومبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس شخص کے پاس کمیٹی کی رقم جمع ہو، کیا وہ کمیٹی کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے؟ جبکہ کمیٹی نکلنے کے وقت تمام استعمال کی ہوئی رقم کمیٹی کی رقم میں شامل کر دے گا۔ اس بارے میں تفصیل ر ہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

سوال کا جواب جاننے کے لیے پہلے یہ جانا ضروری ہے کہ کمیٹی ایڈ من یعنی رقم جمع کرنے والے کے پاس کمیٹی کی جمع شدہ رقم کی حیثیت کیا ہے؟ یہ حیثیت دو صورتوں میں متعین ہوتی ہے: (1) قرض (2) امانت رقم کی حیثیت کی وضاحت: قرض کی صورت: اگر کمیٹی ممبران کی طرف سے ایڈمن کو صراحتا یا دلالتا یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ جمع شدہ رقم کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے، تو ایسی صورت میں یہ رقم قرض شمار ہو گی۔ امانت کی صورت: اگر صراحتا یہ طے ہو کہ جمع شدہ رقم بعینہ محفوظ ر کھی جائے گی اور ایڈ من اسے اپنے استعمال میں نہیں لائے گا، تو یہ رقم امانت شمار ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.