Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کو غلط لقمہ دینے والے مقتدی کی نماز کا حکم؟

Fatwa no.
005-MUI

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ امام صاحب جب تیسری رکعت مکمل کر کے چوتھی کے لیے کھڑے ہو رہے تھے، تو ایک مقتدی نے اس تیسری رکعت کو چوتھی سمجھ کر لقمہ دیا۔ لیکن امام صاحب نے لقمہ نہیں لیا۔ بلکہ چوتھی کے لیے کھڑے ہو گئے۔ رہنمائی فرمائیں کہ اس مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں امام کو غلط لقمہ دینے والے مقتدی کی نماز فاسد ہو گئی، کیونکہ لقمہ دینا ایک اعتبار سے امام سے کلام کرنا ہے کہ آپ غلطی کر رہے ہیں یا آپ کو یہاں یہ کرنا چاہیے ، جبکہ دورانِ نماز کلام کرنا نماز کو فاسد کر دیتا ہے، البتہ بوقتِ ضرورت، اصلاح نماز کے لیے اور مواضع نص (یعنی جن مقامات پر لقمہ دینے کے متعلق خاص نص وارد ہے ان میں لقمہ دینے کو فقہائے کرام نے جائز قرار دیا ہے۔ جبکہ صورتِ مسئولہ میں اس کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی اس مقام پر لقمہ دینے کے متعلق کوئی نص وارد ہے ، لہذا یہ کلام قرار پائے گا اور لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.