Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احتلام کے چند قطروں کے نشان کپڑے پر دیکھے، توکیا غسل لازم ہوگا؟

Fatwa no.
0389-HAB

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کو احتلام ہو جائے، لیکن جب وہ سو کر اٹھا، تو عام طور پر جس طرح منی خارج ہوتی ہے اس طرح نہیں تھا، بلکہ اس کے کپڑوں پر منی کے صرف دو تین قطرے تھے ، تو کیا ایسی صورت میں بھی غسل کرناضروری ہو گا؟

Answer (beginning)

جی ہاں! بیان کردہ صورت میں غسل فرض ہو گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جہاں منی کے خارج ہونے سے غسل فرض ہوتا ہے ، وہاں اس میں قلیل و کثیر کا کوئی فرق نہیں، بلکہ کثیر کی طرح قلیل منی کا خروج بھی غسل کے وجوب کا سبب ہے۔ اس پر درج ذیل عبارات فقہاء دلالت کرتی ہیں: تحفۃ الفقہاء میں ہے: "فأما إذا انفصل عن شهوة وخرج لا عن شهوة فعلى قول أبي حنيفة ومحمد يجب الغسل وعلى قول أبي يوسف لا يجب ۔۔۔۔۔ وفائدة الخلاف تظهر في ثلاث مسائل۔۔۔و الثانية إذا اغتسل الرجل من الجنابة ثم خرج منه شيء من المنی “ ترجمہ : شہوت سے منی جد اہو اور شہوت سے خارج نہ ہو ، تو طرفین کے قول پر غسل واجب ہے اور امام ابو یوسف کے قول پر واجب نہیں۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.