Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جو لوگ علمِ دین میں مشغول ہوں، کیا ان کو سلام کرنا گناہ ہے؟
- Fatwa no.
- 9187-FSD
- Issued
- 24 جمادی الاولی 1446ھ / 27 نومبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ علم دین پڑھنے والوں کو سلام کرنا، مکر وہ تحریمی ہے یا تنزیہی ؟
Answer (beginning)
علم دین کی بڑی فضیلت اور اہمیت ہے، اس کے حصول کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے، شریعت مطہرہ نے حدیث سننے ، سنانے اور علم دین کے حصول میں مشغول افراد کو سلام کرنے سے منع کرتے ہوئے اس موقع پر سلام کرنے کو مکروہ تحریمی ، ناجائز اور گناہ قرار دیا ہے، حتی کہ اگر کوئی اس موقع پر سلام کر دے، تو سننے والوں پر سلام کا جواب دینا بھی واجب نہیں، کیونکہ یہاں سلام کرنے کا محل نہیں اور سلام کے ذریعے ان کی علم دین سے توجہ بٹے گی، لہذا انہیں سلام کرنے کی اجازت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.