Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی کی قسم کھا کر توڑ دی، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 9016-FSD
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے ایک جاننے والی عورت نے میری قریبی رشتہ دار عورت کے متعلق کہا کہ وہ ایسی ایسی ہے (یعنی اس کی برائیاں بیان کیں ) اور پھر مجھے کہا کہ اپنی بیٹی کی قسم کھاؤ کہ تم یہ باتیں کسی کو نہیں بتاؤ گی، میں نے اس وقت اپنی بیٹی کی قسم کھالی، کچھ دن بعد میں اپنی اسی رشتہ دار عورت کے پاس بیٹھی تھی جس کے متعلق مجھے غلط گائیڈ کیا گیا تھا، تو میں نے اسے کہا کہ آپ کتنی اچھی ہیں ، لیکن لوگ آپ کے متعلق کیا کیا کہتے ہیں، تو وہ مجھے کہتی کہ یقینا تمہیں فلاں نے کہا ہو گا، حالانکہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، اسے خود ہی معلوم ہو گیا، میں اب کافی پریشان ہوں، میری ایک ہی بیٹی ہے اور میں نے اس کے نام کی قسم کھالی اور جس بات پر قسم کھائی تھی وہ بھی ظاہر ہو گئی، میں کافی پریشان ہوں، میری رہنمائی فرمائیں کہ اس قسم کا کیا کفارہ ہو گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بیٹی کی قسم کھانا، شرع قسم ہی نہیں، نہ ہی اس کے ٹوٹنے پر کفارہ لازم ہے، اس لیے کہ قسم صرف اللہ پاک کی ذات وصفات کی ہی کھائی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا، خواہ انسان کی ہو ، کسی عبادت کی یا کسی مقدس مقام کی، بہر صورت ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ یہ غیر خدا ہیں اور غیر خدا کی قسم کھانے سے احادیث طیبہ میں منع کیا گیا ہے، نیز جس ذات یا چیز کی قسم اٹھائی جاتی ہے، قسم اس کی تعظیم کا تقاضا کرتی ہے ، حالانکہ اس اعلیٰ درجہ کی تعظیم کی حقیقی حق دار اللہ پاک کی ذات ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی اس تعظیم کا حق دار نہیں، لہذا بیٹی کی قسم کھانا، ناجائز و گناہ ہے ، البتہ اس کی وجہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.