Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جسکا ذہنی توازن خراب ہو اسے زکوٰۃ دینا کیسا؟

Fatwa no.
9008-FSD

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے بچوں کے ماموں کے دماغ پر اثر ہو گیا ہے، وہ بہت بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں، کبھی کوئی بات ٹھیک کرتے ہیں، پھر عجیب و غریب باتیں شروع کر دیں گے، کبھی بچے سے پیار کریں گے، کچھ دیر بعد کہیں گے کہ اسے تھیلے میں ڈال کر باہر پھینک آئیں، وغیرہ، لیکن وہ پاگلوں کی طرح بلا وجہ لوگوں کو گالیاں یا مارتے نہیں ہیں۔ اسی آزمائش میں کئی مہینوں سے وہ بستر پر ہیں، کام نہیں کر پا رہے ، ان پر کافی قرض چڑھ گیا ہے، ان کے پاس سونا، چاندی، کرنسی وغیرہ کوئی چیز نہیں، ان کے والد صاحب رکشہ چلاتے ہیں جس سے گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہو رہے ہیں، یہ بھی صاحب حیثیت نہیں کہ کچھ بچا کر قرض ادا کر سکیں، بلکہ گزارہ بہت مشکل سے ہوتا ہے، تو اگر ہمارا کوئی جاننے والا بچوں کے ماموں کے قرض کی ادائیگی میں زکوۃ دینا چاہے، تو کیا ان کو زکوۃ لگ سکتی ہے اور کیاز کوۃ کی رقم ان کے قرض خواہوں کو دے کر ان کا قرض ادا کیا جاسکتا ہے ؟ تا کہ ان کا یہ بوجھ کم ہو سکے۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی آپ کے بچوں کے ماموں اور ان کے والد صاحب دونوں زکوۃ کے حق دار یعنی شرعی فقیر ہیں (جس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو اور اس میں زکوۃ لینے کی دیگر شرائط ( مثلا ہاشمی نہ ہونا، لینے والے کا دینے والے کی اولا د یا آباء و اجداد نہ ہونا وغیرہ شرائط پائی جائیں ) تو بچوں کے ماموں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، البتہ زکوۃ کی رقم ڈائریکٹ ان کے قرض کی ادائیگی میں نہیں دے سکتے ، بلکہ پہلے انہیں مالک کر نا ضروری ہے، اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (1) زکوۃ کی رقم ان کے قبضہ میں دے دی جائے، پھر اس رقم سے ان کے والد صاحب ان کا قرض ادا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.