Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام حسین اور حضرت عبد اللہ بن عمر کے ایک ساتھ کھیلنے والا واقعہ درست ہے؟
- Fatwa no.
- 8999-FSD
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک خطیب سے یہ واقعہ سنا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما بچپن میں کھیل رہے تھے اور ان کا آپس میں جھگڑا ہو ا ، تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم تو ہمارے غلام کے بیٹے ہو ، یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بری لگی اور انہوں نے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جاؤ امام سین رضی اللہ عنہ سے لکھو الا ؤ، ابن عمر رضی اللہ عنہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ یہ بات لکھ کر دیں، امام حسین رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا کہ عمر ہمارا غلام ہے ، یوں ابن عمر ہمارے غلام کا بیٹا ہے ، ابن عمر رضی اللہ عنہ جب یہ تحریر لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری نجات کے لیے یہ تحریر کافی ہے، کیا یہ واقعہ درست ہے ؟
Answer (beginning)
بیان کردہ واقعہ کافی تلاش کے باوجود کسی معتبر کتاب سے نہیں ملا اور نہ ہی کسی مستند و معتبر مصنف نے اس کو ذکر کیا ہے۔ واقعہ کے متعلق تفصیلی کلام: بنیادی طور پر یہ بات سمجھ لیں کہ حضرت ابن عمر اور امام حسین رضی اللہ عنھا کے متعلق کتب احادیث، شروحات حدیث، کتب سیرت اور تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں حضرات کے در میان عمر کے اعتبار سے کافی فرق ہے ، جیسا کہ صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش چار ہجری میں ہوئی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے آٹھ ہجری میں پہلی جنگ یعنی فتح مکہ میں شرکت کی اور فتح مکہ میں شرکت کے وقت معروف تابعی امام مجاہد رضی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.