Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاق کے بعد بچے کس کے پاس رہیں گے ؟

Fatwa no.
8995-FSD

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دار الافتاء اہل سنت دعوتِ اسلامی سے حاصل کردہ فتویٰ کے مطابق میری بیوی کو تین طلاقیں ہو چکی ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ہمارے دو بیٹے بھی ہیں۔ ایک کی عمر نو سال اور دوسرے کی دس سال ہے۔ شرعی اعتبار سے اُن بچوں کو رکھنے اور پالنے کا حق کس کے پاس ہے ؟ شرعی حکم بیان فرما دیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں موجودہ عمر کے اعتبار سے شرعاً اُن بچوں کی پرورش کا حق ”والد “ کے پاس ہے، کیونکہ طلاق ہو جانے کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال مکمل ہونے تک اُس کی پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے اور سات سال مکمل ہونے کے بعد یہ حق والد کو حاصل ہو جاتا ہے کہ باپ اس مرحلے میں بچے کی تعلیم و تربیت وغیر ہا کے معاملات ماں کی بنسبت زیادہ اچھی طرح کر سکتا ہے، لیکن یادر ہے کہ جب بچے والد کے پاس رہیں گے ، تو ان بچوں کی والدہ کو بچوں سے ملاقات کرنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ اگر والد ، ماں کو بچوں سے ملاقات کرنے میں رکاوٹ بنے یا بچوں کو ماں سے دور کرنے کی کوشش کرے، تو یہ حرکت ناجائز ، گناہ اور سخت حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.