Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض کی وجہ سے مقروض سے چیز سستی خریدنا کیسا؟

Fatwa no.
8987 FSD

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی کو ڈیڑھ لاکھ روپے قرض دے، تاکہ وہ بھینس خرید لے اور قرض دینے والا اس مقروض سے یہ طے کرے کہ وہ اس ڈیڑھ لاکھ روپے کا اس سے دودھ خریدے گا اور مارکیٹ ریٹ سے کچھ کم قیمت پر لے گا، مثلاً : مارکیٹ میں ایک من دودھ اگر 6000 روپے کا ہے، تو قرض خواہ اس سے 5700 روپے کالے گا، یوں اس طرح اسے ہر ایک من پر تین سو کا نفع ہو گا، تو کیا اس قرض خواہ کے لیے ایسا معاہدہ کرنا، جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں قرض خواہ کا ڈیڑھ لاکھ روپے قرض دینے کی وجہ سے مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر دودھ خرید نا، قرض پر مشروط نفع لینا ہے، جو کہ ناجائز وگناہ اور سود ہے، کیونکہ قرض کی وجہ سے کسی قسم کا مشروط نفع لینا مطلقا سود ہے ، خواہ وہ صراحتا مشروط ہو یا دلالہ، اور فقہائے کرام نے قرض کی وجہ سے کسی قسم کی مشروط رعایت یا حق میں کمی کرنے کو بھی سود قرار دیا ہے، لہذا شر عی طور پر ایسا معاہدہ کرنا، جائز نہیں۔ اللہ پاک سود کی حرمت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے : ﴿ وَ أَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَم الرّبوا ترجمہ کنز العرفان: " حالانکہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.