Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نکاح کے لیے عورت کو خریدنا یا والدین کو پیسے دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 488-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورت کو خرید کر نکاح کر سکتے ہیں ؟ آزاد
Answer (beginning)
شخص چاہے مرد ہو یا عورت اس کی بیع باطل ہے، کیونکہ بیچ میں مال کا مال سے تبادلہ کیا جاتا ہے، جبکہ آزاد شخص مال نہیں، لہذا جب آزاد عورت مال ہی نہیں، تو اس کی بیع بھی باطل ہے، لہذا کسی عورت سے نکاح کرنے کیے لیے اُسے خرید نانا جائز و حرام اور گناہ کا کام ہے، اس کی ہر گز اجازت نہیں۔ پھر اگر یہ خرید و فروخت برائے نام ہو اور اصل مقصد لڑکی کے نکاح کے بدلے اس کے گھر والوں کو ان کے مطالبے پر رقم دینا ہو، تو لڑکی کے والدین کا نکاح کے لیے رقم کا مطالبہ کرنا، اور لڑکے یا اس کے والدین کا انہیں نکاح کی خاطر رقم دیناشر عانا جائز و حرام اور گناہ ہے، کیونکہ فقہائے کرام نے اُسے رشوت قرار دیا ہے، اور یہ رقم وصول…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.