Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا حیض کی حالت میں حرم میں داخل ہونا کیسا؟

Fatwa no.
484-FAM

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون عمرہ کے لیے ریاض سے مکہ جارہی تھی، جب وہ میقات پہنچی ، تو اس کے خاص ایام شروع ہو گئے۔ اب اس حالت میں وہ حرم کی حدود میں داخل ہو سکتی ہے ؟ اور اب کہ وہ اس حالت میں عمرہ نہیں کر سکے گی، تو کیا اس پر دم لازم ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

ماہواری کی حالت میں بھی عورت حدود حرم میں داخل ہو سکتی ہے، مگر جبکہ وہ میقات کے باہر سے آرہی ہے ، تو اسے میقات سے عمرے کے احرام کی نیت کر کے ہی حدود حرم میں داخل ہونا ہو گا، بغیر احرام کی نیت کے حدود حرم میں داخل نہیں ہو سکتی، اگر احرام کی نیت کیے بغیر میقات سے گزر جائے گی، تو اس پر دم لازم ہو جائے گا، ہاں جب واپس میقات جاکر عمرہ یا حج کے احرام کی نیت اور تلبیہ کہہ لے گی، تو اس پر لازم ہونے والا دم ساقط ہو جائے گا، البتہ جان بوجھ کر میقات سے بغیر احرام گزرنے کی وجہ سے گنہگار ہو گی، جس سے تو بہ کرناضروری ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.