Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سجدہ سہو سے پہلے دو بار تشہد پڑھ لیا، تو نماز کا حکم؟

Fatwa no.
0445-HAB

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ظہر کی چار سنتیں ادا کر رہا تھا، مجھے سے نماز کا ایک واجب چھوٹ گیا، مجھے سجدہ سہو کرنا تھا، لیکن میں نے التحیات پڑھنے کے بعد درود ابراہیمی اور دعا بھی پڑھ لی، پھر مجھے یاد آیا کہ سجدہ سہو کرنا ہے ، تو میں نے دوبارہ التحیات پڑھی اور سجدہ سہو کیا، پھر التحیات، درود ابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ اس صورت میں میری نماز ہوئی یا نہیں؟

Answer (beginning)

آپ کی نماز ہو گئی، دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اگر کسی پر سجدہ سہو واجب ہو ، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ قعدہ اخیرہ میں صرف التحیات پڑھ کر سلام پھیرے اور سجدۂ سہو کرے اور یہ بھی جائز بلکہ بہتر اور احوط ہے کہ سجدہ سہو سے پہلے اور بعد دونوں میں التحیات کے ساتھ درود ابراہیمی اور دعا پڑھ لے اور قعدہ اخیرہ میں جو تکرار تشہد کیا یعنی سجدہ سہو سے پہلے دو مر تبہ تشہد پڑھ لیا، تو اس سے بھی کوئی سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، کیونکہ التحیات دعاوثنا ہے اور قعدہ اخیرہ کے محل دعا وثناء ہونے کے سبب نمازی کو دعاوثناء کی کثرت کرنے کا اختیار ہے، لہذا نمازی پر جو پہلے سجدہ سہو لازم تھا، اس کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.