Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیاس لگنے پر روزے چھوڑنا اور روزے کا فدیہ کا حکم؟

Fatwa no.
474-FAM

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں 17 سال سے ذہنی مریضہ ہوں اور رمضان کے روزے نہیں رکھتی، کیونکہ میں جو ادویات استعمال کرتی ہوں ، اُن کے ساتھ پانی بہت پینا پڑتا ہے ، میں ایک منٹ بھی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی چاہے سردی ہو یا گرمی، ان ادویات کے علاوہ کوئی حل بھی نہیں ہے ، تو میں اپنے روزوں کا فدیہ دیتی ہوں، کیا یہ جائز صورت ہے ؟ اگر نہیں تو برائے کرم شرعی رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی آپ پانی پیے بغیر نہیں رہ سکتیں، اور گولیاں کھانے سے پانی کی پیاس اس شدت سے لگتی ہے کہ اگر آپ پانی نہیں پیتی ، تو پیاس کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پانی نہ پینے کے سبب جان جانے یا شدید قسم کا نقصان، یانا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں فی الحال آپ کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہو گی، مگر اس صورت میں آپ کو روزے کی قضاہی کرنا ہو گی، فدیہ دے کر آپ اُن روزوں کی ادائیگی سے بر کی الذمہ نہیں ہو سکتیں، لہذا آپ اس بیماری کے جانے کا انتظار کریں، اگر بیماری ختم ہو جائے یا کم ہو جائے جس کی وجہ سے ان ادویات کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہو ، تو اب اُن تمام…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.