Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوران نماز موبائل بج رہا ہو، تو بند کرنے کے لیے نماز توڑ نے کا حکم

Fatwa no.
470-FAM

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر باجماعت نماز کے دوران کسی نمازی کا موبائل بجنے لگے، جس سے مقتدیوں اور امام کی نماز میں خلل آرہا ہو ، اور موبائل کو عمل کثیر کے بغیر بند کرنا بھی ممکن نہ ہو ، تو اب ایسی صورت میں کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

جماعت سے نماز کے دوران جب موبائل کے بجنے کی وجہ سے کافی شور ہورہا ہو کہ جس کی وجہ سے نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہو رہا ہو ، اور موبائل کو بغیر عمل کثیر کے بند کرنا بھی ممکن نہ ہو ، تو اپنی اور دوسروں کی نماز کو خلل سے بچانے کی ضرورت کی وجہ سے نماز توڑنے کی اجازت ہے، لہذا ایسی صورت میں نماز توڑ کر موبائل بند کرے، اور پھر نئے سرے سے نماز شروع کرے۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ” أن القطع يكون حراما و مباحا ومستحباوواجبا،فالحرام لغير عذرِ والمباح إذا خاف فوت مال، والمستحب القطع للإكمال، والواجب لإحياء نفس “ترجمہ : نماز توڑنا کبھی حرام، کبھی جائز، کبھی منتخب اور کبھی واجب ہوتا ہے، اگر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.