Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تعویذ پہن کر واش روم جانا کیسا؟
- Fatwa no.
- 464-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر تعویذ گلے یا بازو پر پہنا ہوا ہو ، تو تعویذ کے ساتھ واش روم جاسکتے ہیں، یا تعویذ اتار کر جانا ہو گا؟
Answer (beginning)
کسی کپڑے ، ریگزین، چمڑے وغیرہ میں لپیٹ کر گلے یا بازو میں پہنے گئے تعویذ کے ساتھ واش روم جانا، جائز ہے ، اس میں کوئی گناہ نہیں، البتہ اتار دینا بہتر ہے۔ در مختار میں ہے: ” رقیة فی غلاف متجاف لم يكره دخول الخلاء به والاحتراز افضل“ ترجمہ: کسی جدا غلاف میں لیٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا، مکروہ نہیں، البتہ بچنا افضل ہے۔ (درمختار، جلد 1، كتاب الطهارة، صفحه 355، دار المعرفة، بيروت) مجمع الانہر میں ہے : "ولو كان مافيه شيء من القرآن أو من أسماء الله تعالى في جيبه لا بأس به وكذالو كان ملفوفا في شيء لكن التحرز أولى “ترجمہ : اور اگر جیب میں ایسی چیز ہو جس میں قرآن یا اسمائے الہیہ میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.