Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کی طرف سے حج بدل کا حکم اور حج بدل کی شرائط

Fatwa no.
2642 - AQS

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب پر حج فرض تھا، لیکن انہوں نے حج نہیں کیا اور فوت ہو گئے اور حج کے لیے وصیت بھی نہیں کی۔ اب کیا اور ثا ان کی طرف سے حج بدل کر سکتے ہیں یا کسی کے ذریعے کروا سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں والد صاحب کے فرض حج کے بدلے میں ان کی طرف سے کسی وارث کا حج بدل کرنا یاور تا کا کسی اور شخص کو حج بدل کے لیے بھیجنا، جائز اور عظیم اجر و ثواب کا کام ہے، لہذ اور تاکو یہ نیکی ضرور کرنی چاہیے ، اگر چہ والد صاحب نے حج بدل کی وصیت نہیں کی تھی، لیکن اللہ پاک کی رحمت سے امید ہے کہ وہ حج ان کے فرض حج کا بدل ہو جائے اور ان کی طرف سے فرض حج ادا ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.