Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پہلے قعدے میں مقتدی نے تشہد کا تکرار کیا، تو نماز کاحکم

Fatwa no.
2694-AQS

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض اوقات نماز پنجگانہ میں امام صاحب پہلے قعدہ میں تشہد پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن مقتدی کا تشہد مکمل ہو جاتا ہے ، تو اب اگر مقتدی اس وجہ سے کہ خاموش رہنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے، دوبارہ آدھی تشہد پڑھ لے ، تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

جماعت میں مقتدی کو چاہیے کہ اس رفتار سے تشہد پڑھے کہ امام کے تشہد مکمل کرنے تک مقندی کا تشہد مکمل ہو جائے اور اگر مقتدی نے قعدہ اولیٰ میں امام سے پہلے تشہد پڑھ لیا، تو اب اس پر واجب ہے کہ خاموش بیٹھار ہے اور امام کے اٹھنے کا انتظار کرے؛ یہ خاموش بیٹھنا امام کی اتباع کی وجہ سے ہے، تو اس سے مقتدی کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ مقتدی قعدہ اولیٰ میں امام سے پہلے تشہد مکمل کر لے ، تو اب تیسری رکعت کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا، کہ امام کی اتباع واجب ہے اور امام ابھی تک بیٹھا ہوا ہے ؛ اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ پہلے قعدے میں تشہد سے زیادہ کچھ بھی نہ پڑھا جائے، خواہ دُرود پاک ہو یا تشہد ہی کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.