Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام نے پانچویں رکعت کو چوتھی سمجھا اور اسی میں قعدہ اخیرہ کر کے سلام پھیر دیا ،تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 592-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام صاحب عصر کی نماز میں تیسری رکعت کو دوسری رکعت سمجھ کر قعدہ اولی گمان کرتے ہوئے بیٹھ گئے اور پانچویں رکعت کو چوتھی رکعت سمجھ کر قعدہ اخیرہ گمان کرتے ہوئے بیٹھ گئے اور سلام پھیر کر مکمل پانچ رکعت نماز پڑھادی، تو کیا اس طرح نماز ہو گئی یا نہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب امام صاحب نے تیسری رکعت کو دوسری سمجھ کر اس میں قعدہ کیا، تو ظاہر ہے انہوں نے چوتھی رکعت کو تیسری رکعت سمجھ کر اس میں قعدہ اخیرہ نہ کیا، اور وہ پانچویں رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے جو کہ ان کے گمان کے مطابق چو تھی تھی، اب اگر امام صاحب اس پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے یاد آجانے پر واپس قعدہ اخیرہ میں آجاتے ، تو سجدہ سہو کر کے نماز درست ہو سکتی تھی، مگر چونکہ انہوں نے اُس پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کر لیا، تو یوں امام اور مقتدیوں میں سے ہر ایک کی فرض نماز باطل ہو گئی، اب ان پر اس نماز کو نئے سرے سے پڑھنا لازم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.