Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے دوران قراءت کرتے ہوئے جمع متکلم کی ضمیر نَا کا الف نہیں پڑھا، تو نماز کا حکم ؟
- Fatwa no.
- 9177 FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے نماز میں قراءت کے دوران سورہ اعراف کی آیت وَاعَدْنَا مُوسی تلاوت کرتے ہوئے وَاعَدْنَا کی ”نا“ ضمیر کو بغیر الف کے و وعدن پڑھ دیا، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر کسی نے آیت وَ عَدُنَا مُوسی ) تلاوت کرتے ہوئے ووعَدُنَا کی ”نا“ ضمیر کو بغیر الف کے ووعَدُنَ پڑھ دیا، تو اس کی نماز درست ادا ہو گئی، کیونکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کسی نے ضمیر "نا" میں الف نہیں پڑھا، تو اگر چہ بظاہر الف نہ پڑھنے سے یہ مؤنث کا صیغہ محسوس ہو رہا ہے ، لیکن نماز فاسد نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب ”الف“ کے عوض فتحہ ، ”یاء کے عوض کسرہ اور ”واؤ“ کے عوض ضمہ پر اکتفاء کرتے ہیں، تو اس تفصیل کے مطابق و واعَدْنَا کی ”نا“ ضمیر کو بغیر ”الف“ کے ووعدن کی پڑھ دینے سے نماز میں کوئی حرج واقع نہیں ہو گا کہ یہاں پر بھی ”الف“ کے عوض فتحہ پر اکتفاء کیا گیا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.