Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پہلے عمرہ کا دم ادا کئے بغیر دوسرا عمرہ کرنے پر حکم؟

Issued
25 بیع الثانی 1446ھ / 29 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میں نے آج سے دو تین سال پہلے عمرہ کیا تھا، جس میں مجھ پر ایک دم لازم ہو ا تھا، جو میں نے اب تک ادا نہیں کیا، نیت یہ تھی کہ ادا کر دوں گا، لیکن بھول گیا، اب میں کراچی سے عمرہ کے لیے آیا اور عمرہ ادا کر لیا، پوچھنا یہ ہے کہ کیا میر اعمرہ ادا ہو گیا یا اس تاخیر کے سبب مجھ پر مزید کوئی دم و غیر ہ لازم ہو گیا ہے ؟ نوٹ : سائل نے دم کے متعلق پوچھنے پر بتایا ہے کہ پچھلے عمرے میں انہوں نے ایک ہی مجلس میں ایک ساتھ دونوں ہاتھ پاؤں کے ناخن حالتِ احرام میں کاٹ لیے تھے۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے عمرہ صحیح طریقے سے ادا کیا ہے ، تو محض پچھلے عمرہ میں لازم ہونے والے دم کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کے سبب اس عمرے میں کوئی حرج واقع نہیں ہو گا اور نہ ہی اس تاخیر کے سبب کوئی دم لازم ہے، کیونکہ دم کے لازم ہوتے ہی فوراً اس کی ادائیگی کرنا واجب نہیں ہو تا، بلکہ اس میں تاخیر کی بھی اجازت ہے اور اس تاخیر کے سبب اس دوران ادا کیے جانے والے عمرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ افضل یہ ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے دم کی ادائیگی کر کے اُسے اپنے ذمہ سے ساقط کر دیا جائے، لہذا آپ کو چاہئے کہ جو پچھلے عمرے کا دم لازم ہے، اس کو جلد از جلد حرم شریف میں ادا کر دیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.