Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گیارہویں شریف میں ختم قادریہ کے پرچے پڑھنا کیسا

Fatwa no.
576-FAM

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گیارہویں شریف میں جو ختم قادریہ کے پرچے پڑھے جاتے ہیں ، تو کیا ان پرچوں کا پڑھنا جائز ہے اور اس میں فارسی اشعار بھی ہوتے ہیں، تو ان کے پڑھنے کے متعلق حکم کیا ہے؟

Answer (beginning)

ختم قادریہ کے پرچے بشمول فارسی اشعار کے پڑھنا شرعاً بالکل جائز ہے ، اس میں کوئی ممانعت والی بات نہیں ہے، کیونکہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے عظام کے وسیلہ سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مشکلات حل کرنے کی التجا کی جاتی ہے، اور بلا شک و شبہ اللہ عزوجل کے نیک بندوں کا ان کی حیات ظاہری میں اور اُن کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا، شرعاً جائز و مستحسن اور قرآن وحدیث سے ثابت عمل ہے ، مقبولان بار گاہ کا وسیلہ مشکلات کے حل، مصائب و آلام سے چھٹکارے، دعاؤں کی قبولیت اور دینی و دنیوی بھلائیوں کے حصول کا آسان ذریعہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.