Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹیچر یا ملازم کا ڈیوٹی ٹائم کم دینا اور سیلری مکمل لینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 572-FAM
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دینی مدارس میں پڑھانے والے اگر بلا وجہ چھٹی کریں، یا بلا وجہ طلبہ کو نہ پڑھائیں، تو کیا ان کے لیے مکمل تنخواہ لینا جائز ہو گا ؟ اور یہ مال حلال ہو گا یا نہیں ؟ اسی طرح غیر مسلموں کے بینکوں اور غیر مسلموں کے ہاسپیٹل میں جو مسلمان اجیر خاص ہوتے ہیں، اگر یہ ڈیوٹی کے وقت میں اپنا ذاتی کام کریں، یا گھر آجائیں، تو کیا ان کا مکمل تنخواہ لینا جائز ہو گا اور یہ مال ان کے لیے حلال ہو گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
اجیر خاص کے ذمہ تسلیم نفس واجب ہوتا ہے یعنی جو وقت اس کے کام کے لیے مقرر کر دیا گیا ہو ، اس وقت میں وہاں حاضر رہنا اور سونپا ہوا کام کرناضروری ہے، اجبیر خاص جس دن کام کی چھٹی کرے، یا پورے وقت میں حاضر نہ رہے، یا حاضر ہو کر اپنا ذاتی کام کرے، یا ویسے ہی کام ہونے کے باوجود کام نہ کرے اور بیٹھار ہے ، تو ان سب صورتوں میں جس دن چھٹی کی، یا کم وقت دیا تو اتنے وقت کی کٹوتی کروانا ہو گی، اس اجرت کا وہ مستحق نہیں ہو گا، لہذا دینی مدارس میں پڑھانے والے معلم جس دن مدرسے کی چھٹی کریں، یا مدرسہ حاضر ہو کر بلاوجہ طلبہ کو نہ پڑھائیں، تو ان کے لیے اس دن کی کٹوتی کروانا لازم ہے، مکمل تنخواہ لینا جائز نہیں اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.