Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ کی نماز فاسد ہو جائے، تو کیا وہ دوبارہ پڑھے گا؟
- Fatwa no.
- 9082-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی قراءت میں غلطی کی وجہ سے نمازیں فاسد ہو گئیں، اسے معلوم ہوا تو اس نے اصلاح کی اور وہ نمازیں لوٹالیں۔ لیکن اس نے نابالغی کی حالت میں جو نمازیں ادا کیں، ان میں بھی یہی غلطی کرتا تھا، تو کیا وہ نابالغی کی حالت میں پڑھی گئی نمازیں بھی دوبارہ پڑھے گا؟
Answer (beginning)
اگر کسی شخص کی نابالغی کی حالت میں قراءت میں غلطی کی وجہ سے نماز میں فاسد ہو گئیں اور اب وہ بالغ ہو چکا ہے ، تو نابالغی کی حالت میں پڑھی گئی نمازیں دوبارہ پڑھنا اس پر لازم نہیں۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے نماز عاقل، بالغ جو احکام شرع کا مکلف ہو ، اس پر فرض ہوتی ہے۔ نابالغ بچہ چونکہ احکام شرع کا مکلف نہیں، تو اس پر نماز بھی فرض نہیں، اگر یہ نابالغی کی حالت میں فرض کی نیت سے نماز پڑھے، تو وہ نفل کہلاتی ہے (اور اسے ثواب ملتا ہے ) اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق نابالغ اگر نفل شروع کر کے فاسد کر دے، تو بالا جماع اُس پر ان نوافل کی قضا لازم نہیں، البتہ نابالغ نماز شروع کر کے فاسد…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.