Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ اور چار زانو(چوکڑی مار کر ) بیٹھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 9081 - Sar
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تشہد میں دوزانو بیٹھنے کی شرعی حیثیت اور اس کا درست طریقہ کیا ہے؟ بلا عذر چوکڑی مار کر بھی بیٹھ سکتے ہیں کیا ؟
Answer (beginning)
تشہد میں دونوں گھٹنے بچھا کر دایاں پاؤں یوں کھڑا کرنا کہ اس کی انگلیاں قبلہ رو ہوں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا سنت ہے اور بلا عذر چار زانو یعنی چوکڑی مار کر بیٹھنا خلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے ، ہاں عذر کی صورت میں چارزانو بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھی۔ نماز میں دایاں پاؤں کھڑا کر کے بایاں پاؤں بچھا کر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بیٹھنے کے متعلق صحیح ،سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ میں ہے: واللفظ للاول: " عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله مسلم علیہ وسلم ۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.