Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گونگے شخص کے نکاح کا طریقہ
- Fatwa no.
- 9077-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو شخص بولنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، یعنی گونگا ہو ، اُس کا نکاح کیسے ہو گا؟
Answer (beginning)
گونگے شخص کے نکاح کے دو ممکنہ طریقے ہیں۔ اُن میں سے دوسر ا طریقہ بہتر ہے۔ (1) جو گونگا اشاروں کی زبان جانتا ہو اور ایسے معروف و معہود اشارے کرتا اور سمجھتا ہو کہ جو گونگوں میں رائج ہیں، تو اُس کے سامنے اشاروں کی زبان میں ایجاب کیا جائے گا اور وہ معروف اشارے سے اُس ایجاب کو قبول کرلے گا۔ اسی قبول کے اشارے سے اُس کا نکاح منعقد ہو جائے گا۔ (2) اگر گونگا اشاروں کی زبان سے بھی واقف ہو اور ساتھ لکھنا پڑھنا بھی جانتا ہو ، تو اس کے سامنے لکھ کریا اشاروں سے ایجاب کر دیا جائے اور وہ تحریری صورت میں اُس ایجاب کو قبول کرے، یعنی کاغذ پر لکھ دے کہ ”میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس لڑکی فلانہ بنت فلاں کا نکاح…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.