Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالت احرام میں احتلام ہونے کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 571-FAM
- Issued
- 22 ربیع الثانی 1446ھ / 26 اکتوبر 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص احرام کی حالت میں تھا، وہ ہوٹل میں سامان رکھنے گیا، تو تھکن کی وجہ سے احرام کی حالت میں ہی سو گیا اور اُس کو احتلام ہو گیا، تو کیا احتلام کی وجہ سے اس پر دم لازم ہو گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
احرام کی حالت میں احتلام ہونے سے کچھ بھی لازم نہیں ہو تا، لہذا اگر احرام کی حالت میں احتلام ہو جائے ، تو فرض غسل کرلے اور احرام کی چادر کا جو حصہ ناپاک ہو اہو ، اُسے پاک کرلے، یا دوسری چادر پہن لے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : ” الاحتلام لا یوجب شیئاسوی الغسل “ترجمہ : ( احرام کی حالت میں ) احتلام العلميه، بيروت) سے غسل کے علاوہ کچھ بھی لازم نہیں ہو تا۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، باب الجنايات في الحج، صفحہ244، دارالکتب بہار شریعت میں صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” ( احرام کی حالت میں) احتلام سے کچھ نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.