Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کا نمازیوں کی طرف منہ کر کے درس وبیان کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1906-JTL
Issued
5 ربیع الاول 1446ھ / 10 ستمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جماعت کے بعد امام صاحب کا مقتدیوں کی طرف منہ کر کے درس دینا کیسا؟ جبکہ مسبوق نمازی ابھی اپنی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ مواجہت کہلائے گی؟

Answer (beginning)

جو شخص نماز پڑھ رہا ہو اس کی طرف بلا حائل (یعنی کسی آڑ کے بغیر ) منہ کرنا، مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے۔ یہاں حائل سے مراد ایسی چیز ہے کہ اس کے سبب نمازی کے قیام میں بھی اس کا سامنانہ ہو۔ البتہ اگر بیٹھنے کی صورت میں تو سامنانہ ہو، لیکن قیام میں سامنا ہو ؛ مثلاً: دونوں کے درمیان کوئی شخص نمازی کی طرف پشت کیے بیٹھا ہو کہ اس صورت میں نمازی کے بیٹھے ہونے کی حالت میں تو اس کا سامنا نہیں ہو گا، مگر قیام میں ہو گا، تو یہ ضرور مواجہت ہے اور یہ بھی مکروہ ہے۔ لہذا امام صاحب کا مسبوق نمازیوں میں سے کسی کی طرف بلا حائل رخ کر کے درس دینا شرعا جائز نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.