Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے ایک رکن میں دونوں ہاتھ دو، دوبار اٹھانے سے نماز کا حکم

Fatwa no.
530-FAM

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں ایک رکن میں ہاتھ کو دوبار اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے اور تیسری بار اٹھانے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں میں سے ایک ہاتھ ہی دوبار استعمال کر سکتے ہیں ؟ یا دونوں ہاتھوں کو ایک رکن میں دو دوبار استعمال کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اس مسئلے میں نماز کے فاسد ہونے اور نہ ہونے کا مدار عمل کثیر ہونے اور نہ ہونے پر ہے، چونکہ نماز عمل کثیر سے ٹوٹ جاتی ہے اور ایک رکن میں تین بار ہاتھ اٹھانا عمل کثیر ہے ، لہذا اس وجہ سے ایک رکن میں صرف دو بار ہاتھ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے ، اور تین بار اٹھانے سے نماز ٹوٹنے کا حکم ہے، تو اب جب مدار عمل کثیر پر ہے اور وہ مطلقاً تین بار اٹھانے سے حاصل ہو جاتا ہے، تو دو بار ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہر گز کسی ایک ہاتھ سے ہی خاص نہیں ، بلکہ مطلقاً دو بار اٹھا نامراد ہے، لہذا اگر کسی نے ایک ہاتھ کو دو بار اٹھالیا، تو اب اسے تیسری بار ہاتھ اٹھانے کی مطلقاً گنجائش نہیں ہوگی، کیونکہ اب وہ جو بھی ہاتھ اٹھائے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.