Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرعی معذور امامت کروا سکتا ہے؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کو ریح خارج ہونے کا عذر ہو ، تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟

Answer (beginning)

امامت کے لیے جہاں دیگر شرائط ہیں، وہیں ایک شرط ” امام کا معذور شرعی نہ ہونا بھی ہے ، یعنی تندرست لوگوں کی امامت کے لیے شرط یہ ہے کہ ان کا امام شرعا معذور نہ ہو۔ معذور شرعی سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو کسی بھی وضو توڑنے والی چیز جیسے پیشاب کے قطروں یا مسلسل دشت یار یخ خارج ہونے کی بیماری میں اس طرح مبتلا ہو کہ نماز کا پوراوقت اول تا آخر گزر جائے، مگر اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ وضو کر کے فرض ادا کر سکے ، ایسا شخص شریعت کی اصطلاح میں معذور شرعی کہلاتا ہے ، لہذا اگر کسی شخص کو ریح خارج ہونے کا عذر ہو ، تو اگر اس عذر کی وجہ سے وہ معذور شرعی کی حد تک نہ پہنچا ہو، تو بلا شبہ وہ امامت کروا سکتا ہے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.