Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی دُکان حَجام(سیلون) کا کام کرنے والے کو کرائے پر دینا کیسا؟

Fatwa no.
526-FAM

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کے نیچے مسجد کی پانچ ڈکا نہیں ہیں، جس کا کرایہ مسجد میں جاتا ہے، پانچ دُکانوں میں ایک دُکان حجام (سیلیون) کا کام کرنے والے کو کرایہ پر دی ہوئی ہے اور وہ اس میں لوگوں کی شیو یعنی داڑھی بھی مونڈتا ہے ، تو کیا شرعی اعتبار سے مسجد کی دکان، حجام کو کرایہ پر دینا جائز ہو گا یا نہیں؟

Answer (beginning)

داڑھی مونڈنے والے حجام کو اسی طرح کے کاموں کے لیے مسجد کی دُکان کرائے پر دینا انتہا درجے کی بد عقلی اور نا سمجھی ہے کہ جب مسجد ہی کی دکان میں حرام کام جاری ہوں گے تو گناہ سے بچنے کا ذہن کہاں بنے گا ؟ ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔ حجام (سیلون) کے کام میں جہاں جائز امور جیسے بالوں کی کٹنگ وغیرہ کے کام ہوتے ہیں، وہیں پر بہت سے ناجائز کام جیسے داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرنا، یا پوری ہی شیو کر دینا، یو نہی داڑھی اور سر کے بالوں میں سیاہ خضاب ، یا کالی مہندی وغیرہ لگانے جیسے ناجائز و حرام امور کا بھی ارتکاب کیا جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.