Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض پر ضامن بننے کی اجرت لینا کیسا ؟

Fatwa no.
2674-Aqs

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کو پیسوں کی ضرورت تھی ، لیکن اسے کہیں سے قرض مل نہیں رہا تھا ؟ میرے ایک جاننے والے سے بات ہوئی ہے ، تو وہ میری ضمانت پر قرض دے گا کہ اگر مقروض نے پیسے نہیں دیے تو پھر قرض خواہ کو میں رقم ادا کروں گا۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس قرض لینے والے شخص کی طرف سے ضمانت دوں گا تو کیا اس ضمانت دینے پر میں مقروض سے اجرت لے سکتا ہوں کہ میری ضمانت پر اسے قرض مل رہا ہے ، اس پر کچھ اجرت طے کر کے لوں، کیا ایسا کر ناشرعاً جائز ہے ؟ سائل: سجاد علی (صدر، کراچی)

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ نے جس کا ضامن بن کر اسے قرض دلوانا ہے ،اس سے ضمانت کے عوض اجرت وغیرہ کچھ بھی نہیں لے سکتے ، شرعاً اس طرح کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کسی شخص کے ذمے لازم ہونے والے مطالبے کو اپنے ذمے بھی لازم کر لینا، کفالت / ضمانت کہلا تا ہے۔ دوسرے کا مطالبہ اپنے ذمے لینے والے شخص کو کفیل / ضامن “ کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر کفالت / ضمانت ایک عقد تبرع یعنی دوسرے کے ساتھ محض خیر خواہی و بھلائی کرنے والا معاملہ ہے اور اگر اس کے عوض اجرت لی جائے، تو پھر جس کی طرف سے ضمانت دی جارہی ہے، اس کے ساتھ خیر خواہی کرنے والا پہلو نہیں رہے گا، پھر تو اپنا نفع حاصل کرنا ہو جائے گا،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.