Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ظہر، مغرب، عشاء کے فرضوں کے بعد والی سنت اور نفل ایک سلام کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
9083-FSD

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ظہر کے فرضوں کے بعد سنتوں کی ادا ئیگی کرتے ہوئے اکٹھی چار رکعت کی نیت کر کے ادائیگی کر سکتے ہیں، یعنی پہلی دور کعتیں بطور سنت اور انگلی دو رکعتیں بطور نفل ادا ہو جائیں ؟

Answer (beginning)

ظہر کے فرضوں کے بعد اکٹھی چار رکعتوں کی یوں ادائیگی کرنا کہ پہلی دور کعتیں سنت مؤکدہ اور بعد والی دور کعتیں بطور نفل ادا ہو جائیں، یہ درست ہے۔ یوں ایک ہی سلام سے چار رکعتیں ادا کرنے سے سنتیں اور نفل دونوں ادا ہو جائیں گے۔ یہی حکم مغرب اور عشاء کے بعد دوسنتوں اور نفلوں کو ملا کر پڑھنے کا بھی ہے ، البتہ ان تینوں صورتوں (ظہر ، مغرب اور عشاء) میں بہتر انداز وہی ہے کہ دو، دو کر کے جداگانہ سنتیں اور نوافل ادا کیے جائیں۔ علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ ( وِصال: 1088ھ / 1677ء)لکھتے ہیں: "هل تحسب المؤكدة من المستحب ويؤدى الكل بتسليمة واحدة؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.