Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حالت احرام میں بیوی کو چھونا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 9078-FSD
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی لڑکے اور لڑکی کی نئی نئی شادی ہوتی ہے، تو ایسے جوڑوں کو گھر والوں کی طرف سے حاضری حرمین طیبین اور عمرہ کے لیے بھیجا جاتا ہے ، تو احرام کی حالت میں ان کا اکھٹے اٹھنا بیٹھنا، ایک دوسرے کو چھونا، عمومی سا امر ہے ، سوال یہ ہے کہ احرام کی حالت میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کو چھونا کیسا؟ نیز کیا میاں بیوی احرام کی حالت میں یا طواف کے دوران کسی ضرورت کے سبب یا بلا ضرورت ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
قوانین شرعیہ کی رُو سے احرام خواہ حج کا ہو یا عمرہ کا اس حالت میں یا خاص طواف کرتے ہوئے میاں، بیوی کا ایک دوسرے کو چھونا، یاہاتھ پکڑنا، اگر بلا شہوت ہو، تو اس سے کوئی دم ، وغیرہ لازم نہیں آئے گا اور اگر شہوت کے ساتھ ھولیا، تو ایسی صورت میں دم لازم ہو جائے گا۔ علامہ کا سانی حنفی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ ( سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں : ” يجب على المحرم أن يجتنب الدواعي من التقبيل، واللمس بشهوة، والمباشرة، والجماع فيمادون الفرج لقوله عز وجل فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَج ﴾ (البقرة: 197) ترجمہ : مُحرم پر مقدمات جماع یعنی شہوت کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.