Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرہ کرنے کی منت مانی، تو کیا اس کو پورا کرنا لازم ہے؟

Fatwa no.
9076 FSD
Issued
25 صفر المظفر 1445ھ / 31اگست 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے منت مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں عمرہ کروں گا ، اب اس کا کام ہو چکا ہے، تو کیا اس پر شر عا عمرہ کرنالازم ہے ؟

Answer (beginning)

کسی شخص نے یوں منت مانی کہ "اگر میر افلاں کام ہو گیا، تو میں عمرہ کروں گا، تو ایسی منت ، منت شرعی ہے جس کو پورا کر نالازم ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ منت کے لازم ہونے کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ جس چیز کی منت مانی گئی ہو ، وہ عبادت مقصودہ ہو اور اس کی جنس میں سے کوئی چیز فرض یا واجب ہو، چونکہ عمرہ کر ناعبادت مقصودہ ہے اور اس کی جنس سے فرض حج کی ادائیگی بھی موجود ہے، لہذا شخص مذکور پر عمرہ کرنا لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.