Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا جادو کرنے والا اور کروانے والا مطلقا کافر ہے؟
- Fatwa no.
- 9067-FSD
- Issued
- 24 صفر المظفر 1446ھ /30اگست 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں جادو کرنے اور کروانے والا کیا مطلقا کا فر ہے ؟ یعنی اگر کسی کے بارے میں علم ہو جائے کہ وہ جادو کرتا یا کرواتا ہے ، تو کیا ہم اسے کافر کہہ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جادو ایک حقیقت ہے، قرآن و حدیث کی واضح نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ جادو سیکھنا، سکھانا، کرنا اور کروانا، چند ایک صورتوں میں کفر ہے ، ہر صورت میں کفر نہیں، لہذاہر جادو کرنے یا کر وانے والے کو مطلقا کا فر نہیں کہہ سکتے ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جب اس میں کفریہ اقوال و اعمال نہ ہوں، تو یہ ایک سفلی، مذموم اور ناجائز و حرام کام ہے اور اگر کفریہ اقوال و افعال پر مشتمل ہو ، (جیسا کہ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے ) تو ایسی صورت میں کفر ہے اور کئی صورتوں میں اس کا مر تکب دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.