Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کو امانتاً دفن کرنے اور پھر نکالنے کا حکم

Fatwa no.
9080 FSD

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے گھر سے غائب ہو گیا، تلاش کے باوجود نہ ملا، کچھ ماہ بعد گھر والوں نے اخبار میں اس کے انتقال کی خبر پڑھی، تو متعلقہ تھانے پہنچے ، معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ ادارے والوں نے خود ہی اس کی تجہیز و تکفین کے بعد نماز جنازہ ادا کر کے قریبی قبرستان میں امانتاً دفن کر دیا ہے، اب اس کے گھر والے چاہتے ہیں کہ ہم میت کو قبر سے نکال کر اپنے علاقے کے قبرستان میں دفن کریں، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا میت کو امانتا دفن کیا جاسکتا ہے تاکہ بعد میں نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا جاسکے ؟ اور کیا مذ کورہ صورت میں اہل خانہ میت کو قبر سے نکال کر اپنے علاقے کے قبرستان میں منتقل کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

شریعت مطہرہ میں امانتاد فن کرنے کی کچھ حیثیت نہیں، جہاں ایک بار دفن کر دیا، وہاں سے بلا اجازتِ شرعی منتقل کرنا، جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں میت کو اپنے علاقہ میں دفن کرنے کے لیے قبر کھولنا اور میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا، جائز نہیں۔ مسلمان کی قبر کا احترام بیان کرتے ہوئے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ” لأن أمشي على جمرة، أوسيف، أو أخصف نعلي برجلي، أحب إلي من أن أمشي على قبر مسلم “ ترجمہ : ميں انگارے یا تلوار پر چلوں یا اپنا جو تا پاؤں کے ساتھ سی لوں، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.