Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بولی والی کمیٹی کا شرعی حکم

Fatwa no.
7515-Pin
Issued
21 ربیع الثانی 1446ھ / 25اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بولی والی کمیٹی کا شرعی حکم کیا ہے ؟ ہمارے ہاں اس کا طریقہ یہ ہے کہ کمیٹی میں شامل ہونے والے افراد ہر ماہ ایک جگہ جمع ہو کر کمیٹی ہولڈر کو رقم جمع کرواتے ہیں، پھر اسی جگہ بولی لگتی ہے، جو ممبر سب سے کم بولی لگاتا ہے، اسے اتنی کمیٹی دے کر بقیہ رقم دیگر ممبران میں تقسیم کر دی جاتی ہے ، مثلاً 10 لاکھ کی کمیٹی ہے اور 9لاکھ بولی لگی، تو 9 لاکھ بولی لگانے والے کو دے کر 1 لاکھ ممبران میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ، لیکن کمیٹی لینے والے کو ہر ماہ کمیٹی جمع کر وا کر 10لاکھ پورے کرنے ہوتے ہیں، یعنی رقم وہ کم لیتا ہے، لیکن ادائیگی زیادہ کرتا ہے۔ البتہ کمیٹی ہولڈر اور آخر میں لینے والے دونوں کو بغیر بولی کے پوری کمیٹی ملتی ہے، ہاں ان کو بھی بقیہ ممبران کی کمیٹی سے اضافی رقم ملتی رہتی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہر ممبر اپنی مرضی سے کم بولی لگا کر بقیہ رقم چھوڑتا ہے، لہذا بقیہ ممبران کیلئے وہ رقم جائز ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسی کمیٹی شروع کرنا کیسا، اگر کسی نے کر لی ہو اور اضافی رقم بھی لے چکا ہو ، تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بولی والی کمیٹی خالصتا سودی معاملے پر مشتمل ہے، لہذا اسے شروع کرنا سخت ناجائز ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ کمیٹی لینے والے شخص کے پاس اپنی جمع کروائی ہوئی رقم کے علاوہ بقیہ سب رقم قرض کے طور پر ہوتی ہے اور قرض کا اصول یہ ہے کہ جتنی رقم قرض میں دی جائے، اتنی ہی واپس لینا طے ہو ، اگر اس سے زیادہ لینے کی شرط ہو ، جیسا کہ پوچھی گئی صورت میں ہے ، تو وہ اضافہ سود ہوتا ہے اور سو د لینا، دینا اور اس کا معاہدہ کرنا، سب حرام اور گناہ ہے، قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدات بیان کی گئی ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.