Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والد کی زندگی میں فوت شدہ بیٹی کا وراثت میں حصہ ہوگا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 2667-Aqs
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور ہماری ایک بہن کا انتقال بھی والد صاحب کی زندگی میں ہو گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ والد صاحب کی وراثت میں ان کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی اور اس کی اولاد کا حصہ ہو گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد صاحب کی زندگی میں انتقال کر جانے والی ان کی بیٹی کا والد صاحب کی وراثت میں حصہ نہیں ہو گا، کیونکہ وارث بننے کے لیے یہ شرط ہے کہ مورث ( یعنی جس کی وراثت تقسیم ہونی ہے، اس) کے انتقال کے وقت وارث بنے والا شخص زندہ ہو ۔ یو نہی والد صاحب کے انتقال کے وقت جب ان کے دوسرے بیٹے بیٹیاں زندہ تھے ، تو زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی کی اولاد کا بھی اپنے نانا کی وراثت میں حصہ نہیں ہو گا، کیونکہ بیٹی کی اولا د یعنی نواسے نواسیاں ذوی الارحام میں شامل ہیں اور کسی کے انتقال کے وقت اس کے ورثامیں اگر کوئی عصبہ جیسا کہ بیٹا یا ایسازی فرض رشتہ دار موجود ہو، جس پر ترکہ لوٹایا جاتا ہے ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.