Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں قراءت کے علاوہ دعائیہ کلمات میں لفظی غلطی سے نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 2665-Aqs
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک امام صاحب سے بیان میں ” اللَّهُمَّ اغْفِفز لی“ کے متعلق سنا تھا، لیکن مجھے الفاظ کی صحیح سمجھ نہیں آئی، مجھے یوں لگا کہ امام صاحب نے اللَّهُم فزلی “ یعنی ”غ “ کے بغیر کہا ہے، تو میں نے یہی ”اللهم فزلی “ ہی یاد کر لیا اور پھر کچھ عرصہ تک نمازوں میں دونوں سجدوں کے درمیان یہی کلمات اللهم فزلی“ پڑھتارہا۔ پھر ایک دن امام صاحب سے رابطہ ہوا، تو انہوں نے درست کلمات بتائے۔ آپ سے یہ شرعی رہنمائی درکار ہے کہ جن نمازوں میں میں ”اللَّهُمَّ فولی“ پڑھتا رہا، ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟ وہ نمازیں ہو گئیں یا ان کو دوبارہ پڑھنا ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جن نمازوں میں آپ نے ”اللہم فرائی “ یعنی ”غ “ کے بغیر پڑھا تھا، وہ نمازیں درست ادا ہو گئی ہیں، ان کو دُہرانے کی حاجت نہیں ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ نماز میں قراءت ہو یا دیگر تسبیحات و اذکار نماز ، ان میں اگر ایسی غلطی کی، جس سے معنی فاسد ہو جائیں، تو نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اگر ایسی غلطی کی، جس سے معنی تبدیل تو ہو جائیں، لیکن فاسد نہ ہوں تو نماز درست ہو جاتی ہے اور سوال میں بیان کردہ دعائیہ کلمات "اللهم اغفر لی " کا معنی ہے: ”یا اللہ !میری بخشش فرما اور جو آپ نے غ کے بغیر ”اللہم فرائی “ پڑھا ہے، اس کا معنی ہے: یا اللہ !میرے لیے زیادہ فرما۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.