Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفاس کی حالت میں طلاق دینا کیسا؟ اورعدت کا کیا حکم ہوگا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 2650-Aqs
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس عورت کو نارمل روٹین سے ماہواری آتی ہو ، ایسی عورت کو نفاس کی حالت میں اس کا شوہر طلاق دیدے ، تو اس کی عدت کب شروع ہو گی اور کب تک ہو گی ؟ کیا جب نفاس ختم ہو گا، تو عدت ختم ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس عورت کو جب سے طلاق ہوئی ہے ، اسی وقت سے ہی اس کی عدت شروع ہو جائے گی اور اس کی عدت بھی تین ماہواریاں (حیض) ہی ہے یعنی جب یہ نفاس ختم ہو گا، اس کے بعد پاکی کے دن آئیں گے اور پھر تین ماہواریاں ختم ہوں گی ، تو اس عورت کی عدت مکمل ہو جائے گی۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ عورت کی عدت دو طرح کی ہوتی ہے: (1) امید (حمل) سے ہے، تو بچے کی ڈلوری تک عدت ہوتی ہے، یعنی جس وقت اس کو طلاق ہوئی تھی ، اس وقت وہ امید (حمل) سے تھی، تو جب اس کے یہاں بچے کی پیدائش ہو گی ، تو اس کی عدت مکمل ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.